Advertisement

شوکت مقدّم پاکستان بحریہ کے سابق آفیسر ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دو ملکوں جنوبی کوریا اور قازقستان میں پاکستان کے سفیر بھی رہے ہیں۔ 

 اِن کی دو صاحبزادیاں اور ایک بیٹا ہے۔ دوسری بیٹی کا نام نور مقدّم تھا۔ نور بیس جولائی کی شام ہولناک طریقے سے قتل ہوگئی، اور اس قتل نے پورے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ پانچ دِن سے دہشت زدہ ہے۔ 

نور مقدم کے ساتھ آخر کیا ہوا تھا؟ ایسا کیس جِس نے سارا اسلام آباد ہلا کر رکھ دیا

نور کے ساتھ کیا ہوا، اس طرف آنے سے پہلے میں آپ سے ایک دوسری خاندان کا تعارف بھی کرواؤ گا۔ 

پاکستان میں جعفر برادرز کے نام سے ایک بڑا بزنس گروپ ہے، یہ لوگ کربوں روپے کے مختلف کاروبار کرتے ہیں۔ جعفر برادرز کے ایک بھائی عبدل قادر جعفر لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی رہے ہیں۔ اِن کے صاحبزادے ذاکر جعفر بھی ارب پتی ہے۔ ذاکر جعفر کا بزنس برطانیہ اور امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ کراچی میں رہتے ہیں لیکن امراء کی طرح انھوں نے بھی اپنا ایک گھر اسلام آباد کے پوش علاقہ F 7-4 میں بنا رکھا ہے اور فیملی اسلام آباد اور کراچی دونوں جگہوں پر رہتی ہے۔

ذاکر جعفر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اور بیگم عصمت کا تعلق آدمجی فیملی سے ہے۔ ذاکر جعفر کے بڑے بیٹے کا نام ظاہر ذاکر جعفر ہے، یہ عرفِ عام میں ظاہر جعفر کہلاتا ہے۔ امریکہ میں پیدا ہوا، نیو جرسی میں پڑھتا رہا۔ لندن میں بھی زیرِ تعلیم رہا اور یہ آج کل پاکستان میں رہتا تھا۔ 

ناظرینِ کرامِ دُنیا میں پاگل پن کی نو وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی تین وجوہات دولت، دولت اور دولت ہے۔ ظاہر جعفر سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوا لہٰذا اُس میں وہ ساری خرابیاں موجود ہیں جو عموماً دولت مندوں میں ہوتی ہیں۔ تکبر، بدتمیزی، ظلم، نشہ۔ میرے ایک دوست ایسے نوجوانوں کو پائلٹ کہتے ہیں، کیونکہ یہ نوجوان اپنی والدین کی دولت اڑاتی ہے لہٰذا یہ پائلٹ ہوتے ہیں۔ ظاہر جعفر بھی پائلٹ تھا یہ بھی دِن رات والدین کی دولت اڑاتا تھا۔

نور مقدّم اور ظاہر جعفر دوست تھیں۔ یہ لیونگ ریلیشنشپ (Living Relationship) میں تھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ گھومتے پھرتے اور کھاتے پیتے رہتے تھیں۔ خاندان بھی ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ 19 جولائی 2021 کو عید سے پہلے نور مقدّم اچانک گھر سے غائب ہوگئی۔ والدین نے تلاش کیا لیکن وہ نہ ملی۔ فون بھی بند آرہا تھا۔ شوکت مقدّم نے ذاکر جعفر سے رابطہ کیا، ذاکر جعفر نے جواب دیا کہ میں کراچی میں ہوں، میں نے پتہ کیا لیکن نور ظاہر کے ساتھ نہیں ہے ۔ والدین نے تشویش کے عالم میں ہر طرف فون کرنا شروع کردیئے اس دوران نور کا فون آن ہوا اور اُسنے والدہ کو بتایا کہ میں دوستوں کے ساتھ لاہور آئی ہوئی ہوں، کل پرسوں تک واپس آجاؤں گی۔ یہ سُن کر والدہ مطمئن ہوگئی۔ 

دوستوں 20 جولائی کو کہانی کلی، وہ لاہور میں نہیں تھی، وہ ظاہر جعفر کے ساتھ اسکے گھر میں تھی اور ذاکر جعفر نے شوکت مقدّم یعنی لڑکی کے والد کے ساتھ جھوٹ بولا تھا۔ 

20 جولائی چار بجے نور اور ظاہر کا جگھڑا ہوا اور ظاہر نے اُسے مارنا شروع کردیا۔ نور نے جان بچانے کیلئے روشندان کھول کر پہلی منزل سے چھلانگ لگادی ۔ وہ گرل کے ساتھ بھی ٹکرائی اور فرش پر گرنے سے زخمی بھی ہوگئی۔ گھر پر اُس وقت دو ملازم تھے، جمیل احمد اور محمد افتخار۔ اِن میں سے ایک خانساماں تھا اور دوسرا چوکیدار۔ یہ جوان لوگ ہیں۔ نور اِنکے سامنے فرش پر گری اور گھسٹ کر گیٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ چوکیدار کی منتے کر رہی تھی کہ تم گیٹ کھول دو، ظاہر مجھے مار دیگا۔ لیکن وہ پتھر بن کر کڑا رہا۔ ظاہر جعفر تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے آیا اور نور کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے دوبارہ اُوپر لے گیا۔ وہ اِس کا سر سیڑھیوں پر بھی مارتا رہا۔ یہ دِن ساڑھے چار بجے کا واقعہ تھا۔ ملازمین نے فون کرکے ظاہر کے والد ذاکر جعفر کو بتا دیا لیکن اُسنے نظر انداز کردیا۔ ظاہر نے اِس کے بعد نور کو بالائی منزل پر اذیت پہنچانا شروع کردیا۔ اِس نے اِس کے جسم میں چار جگہ چاقو مارا اور ایک بڑا زحم چھاتی پر بھی تھا۔ وہ اِسکی منتّے کرتی رہی لیکن وہ اسکے جسم کو چاقو سے کاٹتا رہا۔ نور نے اپنے فون سے ویڈیو کالز کی کوشش بھی کی اور شور بھی کیا لیکن کوئی اِسکی مدد کو نہ آیا۔ 

ظاہر نے اِس دوران اپنے والد کو فون کرکے بتایا کہ نور میرے ساتھ شادی نہیں کر رہی اور میں اسے قتل کر رہا ہوں۔ والد نے اِس بات کو بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ملازمین نے اِس دوران ایک بار پھر والد کو بتایا کہ کمرے کے اندر سے چیخوں کی آوازیں آرہی ہے اور لوگ گھر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ والد نے چوکیدار سے کہا کہ تم فکر نہ کرو میں ابھی تھیراپی سینٹر والوں کو بیجھتا ہوں۔ 

ہم یہاں کہانی روک کر تھیراپی سینٹر کی طرف آتے ہیں۔ اسلام آباد کے F-7 سیکٹر میں دو بھائیوں دلیپ کمار اور وامک ریاض نے تھیراپی سینٹر کے نام سے اعلیٰ طبقے کے بچوں کے لئے نفسیاتی بحالی سینٹر بنا رکھا ہے۔ 

یہ سینٹر پارٹیوں کے دوران امراء کے بچوں کو سنبھالتے ہیں۔ ذاکر جعفر نے وامک ریاض کو فون کیا اور بڑے عام سے لہجے میں کہا کہ وامک میرے گھر میں کسی کو بیجھوا دو، وہاں ظاہر کسی لڑکی کے ساتھ سولوسیٹ (Solocit) کر رہا ہے۔

( سولوسیٹ کو اعلیٰ طبقے کے انگریزی میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنسی زبردستی تعلق کو کہتے ہیں۔)

والد کا لہجہ اتنا مغمولی تھا کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گیا۔ بہرحال تھیراپی سینٹر نے اپنی ٹیم بیجھوا دی۔ اِس دوران ظاہر اور نور کے دوست بھی اُن کے گھر پہنچ گئے۔ وہ گیٹ پر کڑے تھے اور ٹیلیفون پر ظاہر کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ تھیراپی سینٹر کے ٹیم نے ظاہر کو دروازہ کھولنے کا کہا، اُس نے انکار کردیا۔ ٹیم لیڈر امجد سیڑھی چڑھا کر اُوپر گیا، اُسنے کھڑکی توڑی اور اندر کی صورتِ حال کو دیکھ کر سکتیں میں آگیا۔ پورے کمرے میں خون تھا جبکہ نور کا سر جسم سے الگ دور پڑا تھا۔ امجد نے ٹیم کو آواز دی کہ فوراً اُوپر آجاؤں لیکن ٹیم کے پہُںچنے سے پہلے ہی ظاہر نے امجد پر بھی خملہ کردیا، گولی چلائی لیکن گولی پستول میں پھنس گئی اُسنے اِس کے بعد امجد پر چاقو پر خملہ کردیا۔ چاقو امجد کے جگر میں لگ گیا لیکن وہ بہرحال اُس سے لڑتا رہا اور اُسنے اُسے گرا لیا۔ اِس دوران ٹیم آگئی اور اُسنے ظاہر کو بھاند دیا۔ ہمسائے یہ اپراتفری دیکھ رہے تھے۔ ایک ہمسائے نے پولیس بلالی۔ پولیس بھی اندر داخل ہوکر سکتیں میں آگئی۔ پولیس نے ظاہر ذاکر جعفر کو گرفتار کرلیا۔ شوکت مقدّم کو بھی سانحے کی اطلاع دے دی گئی۔ ظاہر کا والد کراچی سے واپس آگیا اور آکر پولیس پر چڑھائی کردی۔ اُسکا بار بار کہنا تھا کہ آپ میرے بیٹے کو قاتل کہنے والے کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ پولیس نے اُسے بہت سمجھایا لیکن دولت میں اگر تکبّر نہ ہو تو پھر دولت، دولت نہیں ہوتی۔ ذاکر جعفر نے وکلاء کی لائن بھی لگا دی اور ہر طرف سے دباؤ بھی ڈالنا شروع کردیا۔ لیکن میں یہاں پولیس کی تعریف کروں گا بلحصوس ڈی آئی جی افضال احمد کوثر صاحب قابلِ تعریف ہے۔ 

یہ شحص دباؤ میں نہیں آیا، انہوں نے تفتیش کرائی اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ اگر ظاہر جعفر کے والدین معاملے کو سنجیدہ لے لیتے یا اپنے بیٹے کو سپورٹ نہ کرتے، تو نور مقدّم بچ سکتی تھی۔ تو اِس نے ذاکر جعفر اور اِسکی بیگم عصمت آدمجی کو بھی گرفتار کرلیا اور اِن دونوں ملازمین کو بھی پکڑ لیا جو اگر اس وقت ذرا سی کوشش کر لیتے، پولیس کو اطلاع کردیتے یا کسی ہمسائے کو بلا دیتے تو بھی نور بچ سکتی تھی۔ ذاکر جعفر اور اُنکی بیگم عصمت آدمجی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ساری کوششیں کی، ریمانڈ کے وقت بھی وکلاء کی لائنیں لگا دی گئی لیکن بہرحال پولیس کی استقامت کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ اور اب قاتل ظاہر جعفر، اُس کے والدین اور ملازمین سب حوالات میں ہیں۔

یہ شحص دباؤ میں نہیں آیا، انہوں نے تفتیش کرائی اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ اگر ظاہر جعفر کے والدین معاملے کو سنجیدہ لے لیتے یا اپنے بیٹے کو سپورٹ نہ کرتے، تو نور مقدّم بچ سکتی تھی۔ تو اِس نے ذاکر جعفر اور اِسکی بیگم عصمت آدمجی کو بھی گرفتار کرلیا اور اِن دونوں ملازمین کو بھی پکڑ لیا جو اگر اس وقت ذرا سی کوشش کر لیتے، پولیس کو اطلاع کردیتے یا کسی ہمسائے کو بلا دیتے تو بھی نور بچ سکتی تھی۔ ذاکر جعفر اور اُنکی بیگم عصمت آدمجی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ساری کوششیں کی، ریمانڈ کے وقت بھی وکلاء کی لائنیں لگا دی گئی لیکن بہرحال پولیس کی استقامت کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ اور اب قاتل ظاہر جعفر، اُس کے والدین اور ملازمین سب حوالات میں ہیں۔ 

Urdupoint_2

جعفر فیملی اب قاتل ظاہر جعفر کو بچانے کیلئے اُسے نفسیاتی مریض اور نشي ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ لوگ جان بوج کر سوشل میڈیا پر ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ یہ امریکہ میں بھی جیل میں رہا اور اسے لندن سے بھی تشدد  کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدمجی کو جب نور کے قتل کا علم ہوگیا تو انہوں نے تھیراپی سینٹر کے ساتھ مل کر ظاہر جعفر کو نفسیاتی مجرم بنانے کی کوشش کی۔ پولیس کو بھی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس گیٹ پلانگ کر اندر گئی تھی۔ پولیس نے جب ظاہر کو گرفتار کیا تھا تو وہ اُس وقت بھی ہوش و حواس میں تھا اور یہ آج بھی مکمل ہوش و حواس میں ہے ۔ آپ اِس کی چالاکی دیکھئے، یہ پولیس کے ہر سوال پر ایک ہی جواب دیتا ہے کہ میں امریکی شہری ہوں، مجھ پر پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اور آپ مجھ سے میرے وکیل کے ذریعے سوال کرے۔ یہ پولیس کو بیان نہیں دے رہا۔ والدین نے بھی اِسکی دماغِ توازن کی حرابی کی رپورٹس بنوانا شروع کردیئے ہیں۔

Urdupoint_2

پیارے دوستوں نور مقدم کیس، افغان سفیر کی بیٹی کا واقعہ اور عثمان مرزا کیس سڑتے ہوئے جوہڑ کا صرف ایک جونکا ہے۔ اسلام آباد میں ایسے سینکڑوں ہزاروں واقعات ہوچکے ہیں اور روز ہو بھی رہے ہیں۔ شہر پارٹیوں، نشیوں اور امراء کے بچوں کی واحیات حرکات کا سرکس بن چکا ہے۔ آپ رات کے وقت سڑک پر نہیں نکل سکتے کیونکہ نشے میں دت لوگ آپ کو کُچل جائینگے اور اُن کے والدین بڑے آرام سے کہ میرے بچے سولوسیٹ کررہے تھے کہنگے اور بچے اگلی فلائٹ پکڑ کر باہر چلے جائینگے۔ 

جی تو پیارے دوستوں یہ تھی ہماری آج کی آرٹیکل۔ آپ کی رائے آج کی آرٹیکل کے حوالے سے کیا کہتی ہے کمنٹ کرکے ہمیں بھی ضرور بتائیے گا۔

Advertisement

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here