Advertisement

لاہور: اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران مقامی پولنگ ایجنٹوں کو تعینات کرنے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے سامنے چیلنج کر دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں درخواست پی ٹی آئی کی یاسمین راشد نے اپنے وکیل عامر سعید کے ذریعے دائر کی ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے درخواست کی کہ پولنگ ایجنٹ جو اس حلقے کا رہائشی ہے کو تعینات کرنے پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے اور اسے ای سی پی کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف تعصبات کو مزید بے نقاب کرنے کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس طرح کی کارروائیاں پری پول دھاندلی کی کوششوں کا حصہ ہیں اور ایل ایچ سی سے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے فیصلہ منسوخ کرے۔

یہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ پی ٹی آئی نے پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کی نگرانی کے لئے کے پی سے اپنے ایم این اے تعینات کیے ہیں جو موجودہ وزیر اعلیحمزہ شہباز کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

دھاندلی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پی ٹی آئی کی حکمت عملی سے واقف ذرائع کے مطابق حلقہ بندیوں میں پی ٹی آئی کے پانچ ہزار نوجوان کارکنوں کو تعینات کیا جائے گا اور ان کے ساتھ وکلاء کو پارٹی کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کو پولنگ ایجنٹ بنایا جائے گا اور وہ وردی میں اپنے فرائض انجام دیں گے تاکہ دھاندلی کی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کو خواتین پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا جائے گا اور پولنگ اسٹیشن تک ان کی نقل و حمل کے اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دن پی ٹی آئی کی قیادت بھی پارٹی امیدواروں کے ساتھ رابطے میں رہے گی جبکہ امیدواروں سے گرفتاری سے قبل ضمانتیں حاصل کرنے کو بھی کہا جائے گا تاکہ انہیں گرفتار کرنے کی کسی بھی بولی سے بچا جا سکے۔

Advertisement

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here