118 سالوں میں اے سی سی اے کی پہلی مسلم نائب صدر عائلہ مجید

دنیا میں بہت سے لوگ عالمی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی اور اس کا نام روشن کرنے کا خواب دیکھتے ہیں مگر اس خواب کی تکمیل چند ہی لوگ کر پاتے ہیں۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی عائلہ مجید کا شمار بھی انہی چند لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے شعبے میں مہارت حاصل کی بلکہ دنیا کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہونے والی پروفیشنل اکاؤنٹنسی باڈی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کی نائب صدر منتخب ہو کر اپنے ملک کا نام بھی روشن کیا۔

عائلہ مجید توانائی کے مستقبل، موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات اور پائیدار انفراسٹرکچر پر کام کرتی ہیں اور ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل فیوچر کونسل آف انرجی ٹرانزیشن کی عالمی رہنما کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔

ابتدائی تعلیم اور کیریئر

حال ہی میں اے سی سی اے کی نائب صدر منتخب ہونے والی عائلہ مجید نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے فیڈرل گورنمنٹ کالج سے پری انجینیئرنگ اور پری میڈیکل پڑھا، بعد ازاں معاشیات، فزکس اور ریاضی میں گریجویشن کیا۔ پھر انہوں نے لمز سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد اے سی اے کیا اور یونیورسٹی آف لندن سے قانون بھی پڑھا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عائلہ مجید کا کہنا تھا کہ ’ذاتی زندگی میں میں بہت تخلیقی ہوں اور میرا یہ ماننا ہے کہ گریڈز سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کس انسان میں کتنی صلاحیتیں ہیں۔ میری تعلیم اور کیریئر میں کچھ بھی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا، مجھے چیلنجز لینا پسند ہے اور اسی لیے میں نے اپنے تعلیمی کیریئر اور پیشہ ورانہ زندگی میں اتنے مختلف مختلف کام کیے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایم اینڈ اے فنانشل ایڈوائزری میں کام کرنے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے اکاؤنٹنگ میں اپنی مہارت کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اسی لیے نے اے سی سی اے کی تعلیم حاصل کی۔‘

اے سی سی اے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک گلوبل اکاؤنٹنگ باڈی ہے جو 1904 میں بنائی گئی۔ یہ سو سے زائد ممالک میں موجود ہے اور ہمارے طلبہ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، پانچ سو سے زائد طلبہ اور دو لاکھ 70 ہزار سے زائد اراکین ہیں جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔‘

’دراصل اے سی سی اے کونسل اعلیٰ ترین گورننگ باڈی ہے یہ ایک طریقے سے اس تنظیم کا بورڈ ہے جس کے لیے میرا انتخاب پہلی مرتبہ 2014 اور دوسری مرتبہ 2017 اور تیسری مرتبہ 2020 میں کیا گیا۔  کونسل دنیا بھر سے منتخب کیے گئے 45 اراکین پر مشتمل ہے اور پھر اسی کونسل میں اندرونی طور پر انتخابات ہوتے ہیں جنہیں کاؤنسلز آفیسرز الیکشن کہا جاتا ہے۔ سو میں نے کونسلز آفیسرز کے انتخابات میں حصہ لیا اور بطور نائب صدر میرا انتخاب کیا گیا۔ یہ اس لیے بھی میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ نہ صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا بلکہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون ہوں جس نے اے سی سی اے کی تاریخ میں یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔‘

اے سی سی اے ہی کیوں؟

عائلہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اے سی سی اے ایک ایسی ڈگری ہے جو دنیا کے بہترین نصاب پر مبنی ہے اور یہ ایک اعلیٰ معیار کی تعلیم ہے اور چونکہ میں کام کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم حاصل کر رہی تھی لہٰذا میں نے اس ڈگری کا انتخاب کیا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں اے سی سی اے کی جانب طلبہ کو راغب کرنے اور مواقع پیدا کرنا کیوں ضروری ہے اور اس کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور اس جیسے ترقی پذیر ممالک میں اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنا اور اپنے اچھے کیریئر کے مواقع تلاش کرنے لیے لوگوں کا چیزوں کے بارے میں جاننا اور اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ طلبہ کو  اے سی سی اے کی جانب راغب کرنے کے لیے اے سی سی اے بہت سے پارٹنرز ، سکولز ، کالجز کے ساتھ کام کر رہا ہے مگر پاکستان جیسے ملک میں طلبہ کو اس کی جانب راغب کرنے کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔‘

عالمی سطح پر اے سی سی اے کی اہمیت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’ اے سی سی اے اس لیے بھی بہت اہم ہیں کیونکہ اس کا نصاب وقت کے تقاضوں کے مطابق ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی بہت پہچان (recognition) ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ بینکنگ سے لے کر ہوٹلنگ اور سیاست کے شعبے تک دیکھیں تو ہر  شعبے میں  اے سی سی اے کرنے والے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں سو یہ بہت زیادہ اہمیت رکھنے والی ایک اعلیٰ تعلیم ہے۔‘ عائلہ مجید نے مزید کا کہنا تھا ’میں اپنا یہ اعزاز پاکستان، جنوبی ایشیا اور تمام مسلمانوں کے نام کرتی ہوں کیونکہ میں مسلم دنیا سے پہلی نائب صدر ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے سی سی اے اور خواتین

اس سوال کے جواب میں کہ اے سی سی اے کی تعلیم حاصل کرنے میں خواتین کی شرح کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم اے سی سی اے کے طلبہ کی شرح دیکھیں تو تقریباً 50 فیصد طلبہ خواتین ہیں۔ اگر اراکین اور کونسل کی بات کریں تو بھی قریباً برابر کی شرح میں ہی خواتین اور مرد طلبہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ اے سی سی اے آسان دورانیے کا پروگرام ہے جو کہ اپنے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، اس لیے مرد و خواتین کے لیے یہ تعلیم حاصل کرنا خاصا آسان ہے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔‘

’یہ ان افراد کے لیے بھی اچھا ہے جو کیریئر وقفہ لینے کے بعد کام دوبار سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ دور دراز علاقوں میں موجود افراد بھی کر سکتے ہیں بلکہ ان کے لیے تو یہ بہت فائدہ مند اور بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ ہم تنوع (diversity) اور شمولیت پر یقین رکھتے ہیں اور ذاتی تعصاب سے بالاتر ہو کر مفادِ عامہ کے لیے کام کرنا ہمارا مشن ہے۔‘

فلاحی کام

عائلہ مجید کا کہنا تھا: ’مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے اعلیٰ مقامات تک رسائی اس لیے حاصل کی کیونکہ ان کے پاس مواقع تھے اور اب جب کہ میں اس مقام تک پہنچ چکی ہوں تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میرے دوسروں کو بھی یہ مواقع فراہم کروں۔ تعلیم فراہم کرنا خاص کر پسماندہ طبقے کو تعلیم فراہم کرنا میرے دل کے بہت قریب ہے۔‘

’میں ایک ایسے ادارے کی بورڈ ممبر ہوں جو Teach a child school چلاتا ہے۔ ہمارے لاہور میں دو کیمپس ہیں اور یہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہا ہے اور جو بچے وہاں سے تعلیم حاصل کر کے نکلتے ہیں وہ بزنس اکاؤنٹنگ سمیت دیگر شعبہ جات میں اپنا نام بنا رہے ہیں۔

’ہم نے اپنے سکول کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور بہترین اداروں میں کام کرکے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں مکمل طور پر تبدیل کرتے دیکھا ہے۔‘

سٹاک ایکسچینج اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی

عائلہ مجید نے کا ان تجربات کے بارے میں کہنا تھا کہ ’سٹاک ایکسچیج میں بطور پہلی خاتون بورڈ ممبر کام کرنا شروع میں میرے لیے ایک چیلنج تھا مگر وہاں کام یہ ثابت کرنے کا بھی ایک بہترین موقع تھا کہ خواتین بھی کام میں اتنی ہی مہارت رکھتی ہیں جتنا کہ کوئی اور۔ جب آپ ایسی جگہ پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کو مختلف النوع نقطہ نظر سننے کو مل رہے ہوتے ہیں تو یقیناً نظریات تبدیل ہوتے ہیں اور اس کا فیصلہ سازی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔‘

ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی نمائندگی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’اس فورم میں نمائندگی میری زندگی کا بہترین تجربہ تھا اور دنیا کے اس معتبر ترین فورم پر اپنے ملک، پیشے اور صنف کی نمائندگی کرنے پر میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جس بھی شعبے میں کام کریں لوگوں سے گفتگو ہونا بہت ضروری ہے کیوں کہ اسی کے ذریعے آپ سیکھتے اور مسائل کو سمجھ کر ان کا حل نکال سکتے ہیں۔ بہت سے گلوبل لیڈرز سے مل کر میں نے یہ سیکھا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی فضا قائم کریں اور مستند بنیں۔‘

عائلہ مجید نے حال ہی میں کوپ 27 میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے، اس تجربے کے بارے میں انہوں نے کہا: ’کوپ 27 میں میری شرکت بہت اچھی رہی، میری گفتگو کا موضوع توانائی کی منتقلی تھا جو کہ ڈی کاربنائزیشن اور موسمیاتی تغیر کے برے اثرات کو روکنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ میں اس شعبے میں بہت کام کرتی ہوں اور پاکستان جیسے ملک کے لیے نہ صرف یہ بہترین طریقوں پر کام کرنے کے لیے بہت ضروری ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ہم دنیا کے تمام شراکت داروں کے تک اپنا نقطہ نظر بھی پہنچا سکیں۔

ہم نے ترقی یافتہ ممالک سے لے کر پسماندہ ترین ممالک کے سامنے تک اپنا نقطہ نظر رکھا اور بتایا کہ دنیا کو کن کن مسائل کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے ملکوں کی طرف سے مقرر کردہ اہداف (این ڈی سی) بھی بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور پاکستان کی حکومت اور شراکت داروں میں اس بار پر اتفاق رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔

اردو پوائنٹ 2

اردو پوائنٹ 2 پاکستان کو بہترین نیوز پبلیشر سنٹر یے۔ یہاں آپ پاکستانی خبریں، انٹرنیشنل خبریں، ٹیکنالوجی، شوبز، اسلام، سیاست، اور بھی بہیت کہچھ پڑھ سکتے ہیں۔

مزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button