ٹی 20 ورلڈکپ میں ایشیائی ٹیموں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا: رمیز راجہ

چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ٹی 20 ورلڈکپ میں ایشیائی ٹیموں کو نظر انداز نہیں کیا، ہماری طاقت اسپنرز، ٹیم کمبی نیشن بہت زبردست۔ ہماری ٹیم جیت رہی ہے، جب یہ دو میچ اکٹھے کرتے ہیں تو کنٹرول کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو طرفہ خواتین کی ورلڈکپ میں ریلیف مل جاتا ہے، ایک سخت میچ کے بعد امن آسان ٹیم مل جاتی ہے، میری پاکستان ورلڈ کپ جیتنے کا اہل ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ کی چار سیمی فائنل ٹیموں کے سوال پر پی سی بیئرمین کا جواب تھا کہ ان پاؤز پرویسٹرن بلاک کی ٹیمیں زیادہ کامیاب ہوئیں، تقریباً تمام بڑی ٹیمیں پاکستان آرہی ہیں، بھارت کو بھی یہاں آکر کپ میں کھیلنا چاہتے ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل کا مقصد بھی یہ تھا کہ آپ کے خیال میں یہاں ایک کھیل کھیلنا ہے۔

ورلڈکپ میں ابتدائی میچ بھارت کے ساتھ ہونے پر بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں کہ سوال کرنے پر بورڈ کے سربراہ نے واضح کیا کہ تو ہر میچ کوگزہہ ورلڈکپ ٹیم پاکستان کو زیادہ میچ نہیں دے سکتی تھی لیکن ہم پانچ میچ جیتنے کے لیے تیار تھے۔ ہمیں اس ٹیم کو کریڈٹ دینا ہے، یہ ٹیم آپ کے تعاون سے بہت زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ مشکل کھیل۔

رمیز راجہ نے کہا کہ خامیاں ہر ٹیم میں ہوتی ہیں، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے پاس کولٹی اسپنرز موجود نہیں، اس پر بھی تنقید ہوتی ہے۔ ہر ٹیم کے پاس کوئی ہائی پوائنٹ اور کچھ لو پوائنٹس ہے، اگر مجموعی طور پر ٹیم آپ کو اچھا رزلٹ دے رہی ہے تو پھر اس کی اونرشپ پائی۔

کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کی پارٹینگ پارٹنرشپ کے سوال پر رمیز راجہ کا موقف ہے کہ یہ لوگ اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ بابر اور رضوان کی دوسری جگہ جوڑی بننے کا موقع ملے گا۔ ماضی میں دس سے زیادہ جوڑیاں آزمانے والے پاکستانی ٹیم کے پاس جاتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ پاسپورٹرز کے پاس جب ہمارے پاس ایک بہترین شخص پیئر موجود ہے تو بات کرتے ہیں کہ ان کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔ ٹیم میں ایک بہترین وکٹ کیپر، کھلاڑینگ جوڑی، فاسٹ بولرز سب کچھ اس وقت ہمارے پاس۔

شاہین سے متعلق چیئرمین پی سی بی کا بیان

شاہین آفریدی آئی سی ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے تیار ہیں اور پرجوش ہیں، شاہین سے بات ہوئی ہے وہ بہت پراعتماد ہیں کہ واپسی پہلے کی طرح بہت زبردست، وہ راضی ہو رہے ہیں کہ میں عام طور پر اتنا فٹ نہیں ہوا، اب واپس آیا۔ محسوس کرنا نشستنے کی انجری عام انجری سے الگ، بہت دیکھ بھال کی ضرورت، شاہین نے پوری طرح پلاننگ کررکھی، وہ آسٹریلیا پہنچ کر پریکٹس کے ساتھ دو پریکٹس میچز بھی کھیلیں گے، اس سے ہم سب کو اس فٹنس اور ردھم کا اندازہ ہے۔ ملک شاہین کی طرح ہم بھی پوری طرح تیار ہیں۔

جونیر لیگ کے عنوانات سے رمیز راجہ کا ردعمل

ہماری کوشش ہے کہ وہ بھی ایک پراسس سے گزریں قومی ٹیم تک۔جونیئرز لیگ میں چھوٹے بچے شامل ہورہے ہیں، اس عمر میں یہ خوابیدہ ہیں اور ان کی خوشی کی کوئی قیمت ہے۔ ایک دس سال کا بچہ اب کرکٹ ٹیم امریکہ بناسکتا ہے، ہم باسکٹ بال، بیس بال دوسرے ممالک میں فٹبال کے آئیڈیے یہاں متضاد کرارہےہیں تاکہ بلندیوں کو چھوئیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پرانی طرز کی ٹی ٹوئنٹی کھیلتے ہیں، اس سے متفق نہیں، آپ ہمارے رزلٹ دیکھیں، وہ بہت اچھے ہیں۔

کرکٹ بورڈ کی سطح کے سربراہ نے اس کا ظاہر کاظہار کیا ہے کہ تمام فارمیٹ میں پاکستان کو نمبر بٹون کی تمنا، جونیئر سطح پر کرکٹ کو ٹھیکہیں، اسکولز پر کرکٹ کروارہےہیں، نئیکھیپ پر انوی پوسٹہیں، غیر ملکی پاور ہٹر کوچز آپس میں متفق ہیں۔ دے رہے ہیں جس سے دس سال کی عمر کا بچہ بھی مستقل کامیاب کرکٹر بن سکتا ہے۔



گوگل ایپ اسٹور پر suchtv android ایپ انسٹال کریں۔

اردو پوائنٹ 2

اردو پوائنٹ 2 پاکستان کو بہترین نیوز پبلیشر سنٹر یے۔ یہاں آپ پاکستانی خبریں، انٹرنیشنل خبریں، ٹیکنالوجی، شوبز، اسلام، سیاست، اور بھی بہیت کہچھ پڑھ سکتے ہیں۔

مزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button